اسلام آباد: پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سعودی عرب، امریکہ، چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) عملی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں، جو پاکستان کی معیشت میں نئی سرمایہ کاری اور ترقی کا باعث بنیں گی۔
عالمی سرمایہ کاری اور معاہدے
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف نے بتایا کہ پاکستان نے چین، امریکہ، سعودی عرب، یو اے ای اور وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون بڑھانے کے لیے متعدد معاہدے کیے ہیں۔ ان معاہدوں کا مقصد معیشت کو بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ اکتوبر 2024 میں 34 معاہدے اور یادداشتیں دستخط ہوئیں، جن کی مالیت 2.8 ارب ڈالر تھی۔
ان میں سے سات معاہدے حتمی شکل اختیار کر چکے ہیں، جن کی مالیت 560 ملین ڈالر ہے۔
یو اے ای پاکستان کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جس نے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پیش رفت
امریکہ کے حالیہ دورے کے دوران پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے عاصم منیر نے کہا کہ ممکنہ تجارتی معاہدہ "بڑی سرمایہ کاری" کا راستہ کھول سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کا مقصد تعلقات کو مزید مضبوط، پائیدار اور تعمیری سمت میں لے جانا ہے۔
خطے کی صورتحال اور دیگر بیانات
آرمی چیف نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بھی روشنی ڈالی، خاص طور پر غزہ کی موجودہ صورتحال کو سنگین انسانی المیہ قرار دیا۔ انہوں نے بھارت کی خفیہ ایجنسی "را" پر الزام عائد کیا کہ وہ سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ہے۔
امریکہ کا دوسرا دورہ
یہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دو ماہ کے اندر امریکہ کا دوسرا دورہ تھا، جس دوران انہوں نے اعلیٰ امریکی عسکری اور سیاسی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ کی ریٹائرمنٹ تقریب میں بھی شرکت کی۔
